PDA

View Full Version : Good Urdu article ہر مقتول ’شہید‘ ؟


kamran
21st February 2008, 03:15 AM
http://eeqaz.com/main/articles/08/20080126.htm




ہر مقتول ’شہید‘!

حامد کمال الدین

’شہادت‘ اس ملک میں شاید کی کوئی صحافتی اصطلاح ہے اور یا پھر سیاسی دنیا کا کوئی اعزاز! اس اعزاز کاعطا کرنااخبارات کا اختیار ہے، یا پھر عوامی جلوسوں اور مقرروں کا اور یا پھر اس فیاضی اور دریا دلی کا حق سیاستدانوں کو ہے اور خاص حالات میں اس پر حکومت کا اجارہ ہوتا ہے !

کیا اس بات کا تعین یہں کی سماجی اور اور سیاسی اور عوامی ضروریات کریں گی کہ آئے روز یہں مرنے اور قتل ہونے والوں میں کون ہے جو گولی لگنے سے ’شہید‘ ہوا اور کون ہے جو کسی کے وار سے صرف ’ہلاک‘ ہوا؟!

کیا واقعتا شریعت کی یہ سب اصطلاحیں اب ’سماجی استعمال‘ کیلئے رہ گئی ہیں ؟ اور کیا یہں کے دینی طبقے اور انبیا کے وارث، اصطلاحاتِ دین کے اس ناجائز استعمال کا کوئی نوٹس نہ لیں گے؟ صاحبِ حق خاموش رہے گا تو غصب کی ایک واردات کیا جائز اور معمول نہ سمجھی جانے لگے گی؟ کیا مسند ہائے علم کو اللہ نے یہ امانت نہیں سونپ رکھی؟ یا پھر ’رواداری‘ کا فرض شریعت کے ہر مسلمہ پر سبقت لے جا چکا ہے؟! واللہ احق ان تخشاہ!

الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا (الاحزاب:39) ”وہ لوگ جو اللہ کی رسالتیں پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور کافی ہے اللہ ہی حساب لینے میں “۔

”شہید“ کے معاملے میں اصل یہ ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں مارا جائے۔ یہ منصب آدمی کو اہلِ توحید اور اہل شرک وکفر کے مابین کسی جنگی معرکہ میں ملے، یا پھر ایمان اور توحید کے راستے پر چلنے کے باعث اہل کفر اس کی جان کے دشمن ہوں تب کوئی دو بدو معرکہ نہ بھی ہو دین کے دشمن کسی قاتلانہ حملے یا سازش کے نتیجے میں اس کی جان لے لیں تو بھی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت اسے ”شہید“ ہونے کا مژدہ سناتی ہے ۔ ”شہادت“ موت کا بلند ترین رتبہ ہے اور اللہ کی بندگی و فرمانبرداری کی ایک اعلی ترین صورت اور یہں سے مر کر جانے والے نیکوکاروں کی اصناف میں ایک نہایت اعلی اور مقرب صنف۔

دنیا کے اندر کیسی کیسی وارداتیں نہیں ہوتیں ۔ کسی بھی ’قتل کی واردات‘ میں مارا جانا ”شہادت“ نہیں کہلاتا جس پر کہ احادیث میں بے شمار اخروی فضائل خصوصی انداز میں وارد ہوئے ہیں ۔ یہ صرف وہ ”مارا جانا“ ہے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ حق پر قائم ایک شخص کو حق پر چلنے کی پاداش میں اہل باطل کی جانب سے موت دی جانے کی صورت میں واقع ہوتا ہے۔ شہادت کی بابت اصل یہی ہے۔ رہی موت کی کچھ دوسری صورتیں جو احادیث میں وارد ہوئیں مثلا پیٹ کی بیماری کے باعث وفات ہوجانا، یا ڈوب کر یا ملبے تلے آکر یا ایک زچہ کا زہ کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہوجانا یا اپنے مال یا آبرو کے تحفظ میں بہادری سے لڑتے ہوئے جان دے دینا.... تو ان کیلئے بھی شہادت کا مرتبہ ذکر ہوا ہے مگر یہ وہ اصل شہادت نہیں جو مطلق معنی میں نصوصِ شریعت کے اندر مذکور ہے۔ یعنی یہ اصل شہادت کے ساتھ ملحق ہیں نہ کہ اصل شہادت۔ اصل شہادت یہی ہے کہ آدمی اللہ کے راستے میں مارا جائے۔

پس یہ معاملہ بھی مسلم معاشرے کے ایک عام شخض کے بارے میں ہے، کہ قتل کی ’کسی بھی‘ واردات میں مارا جانا وہ ”شہادت“ نہیں جس کے نصوصِ شریعت کے اندر فضیلت و منقبت کے بکثرت تذکرے ملتے ہیں ، اور جوکہ مطلق و عمومی استعمال میں ”شہادت“ کے لفظ سے ایک اسلامی ماحول یا معاشرے میں ، بولنے والے کی در اصل مراد ہوتی ہے۔ کجا یہ کہ کوئی مرد یا عورت طاغوت کی مسند پر ایک سے زیادہ بار فائز رہی ہو! کوئی شخصیت اللہ کی طرف سے اتری ہوئی شریعت کو پس پشت ڈال کر غیر اللہ کے شرائع و قوانین کی تحکیم کی صورت رب العالمین کے ساتھ شرک کرتی رہی ہو! نہ صرف یہ، بلکہ حدود اللہ کیلئے وحشتناک اور توہین آمیز لفظ استعمال کرتی رہی ہو! جو، اب آخری بار بھی اللہ کے دشمنوں کے ساتھ ملت اسلام کے کئی ایک مفادات کا سودا کرکے آرہی ہو اور اپنے کھلم کھلا بیانات میں صاف اور علی الاعلان یہ پیغام دے چکی ہو کہ وہ اللہ اور رسول سے بر سر جنگ صلیبی قوتوں ہی کے ایجنڈے کو لے کر سولہ کروڑ مسلمانوں کے ایک ملک میں آرہی ہے اور یہ کہ کئی ایک مسلم شخصیات کو پکڑ کر اسے اگر صلیبیوں اور ہندوؤں کے ہاتھ دینا پڑا تو وہ کفر دوستی و اسلام دشمنی کی اس کسوٹی پر پورا اترنے میں ہرگز کوئی دریغ نہ کرے گی.... جس کی رافضیت کے ساتھ نسبت معروف و زبان زد عام ہو اور ’خطرے کی سرزمین‘ میں آنے سے پہلے جس کا ’امام ضامن‘ باندھ کر میدان میں اترنا اخبارات کا موضوع بنا رہا ہو، باوجود اس کے کہ اس کا ’امام ضامن‘ اللہ کی مشیئت کے مقابلے میں اس کے کسی کام آسکتا تھا اور نہ آیا !!!

کیا ”شہید“، جو کہ ”انبیائ“ اور ”صدیقین“ کے بعد نیکوکاروں اور اللہ کی بندگی کرنے والوں کے حق میں بلند ترین درجہ ہے، اور ایک باقاعدہ شرعی اصطلاح ہے، ایسے ہی مصرف کیلئے باقی رہ گیاہے؟

یہ قاتلانہ کارروائیں جو آج ہر طرف ہو رہی ہیں اور بم دھماکے جن کی آوازیں ہر طرف سنائی دے رہی ہیں بلا شبہہ قابل مذمت ہیں اور اغلب یہی ہے کہ کوئی مسلمان جو اسلام اور جہاد کا خیر خواہ ہے ایسی کارروائیوں میں شریک نہیں بلکہ یہ صلیبی، صیہونی اور ہندو ایجنسیوں کی سبوتاج کوششیں ہیں جن کا ہدف آج ہماری یہ سرزمین بنی ہوئی ہے جوکہ اس وقت ٹائم اور نیوز ویک کو بھی خاص طور پر چبھتی دیکھی جا رہی ہے۔ پھر بھی اگر کوئی سادہ لوح مسلمان ایسی کسی کارروائی میں ، جو اس وقت ملک کے اطراف و اکناف میں آئے روز ہورہی ہیں ، شریک ہوتا یا کسی کا آلہء کار بنتا ہے، تو بھی یہ اس بنیاد پر درست قرار نہیں پا سکتیں کہ ان کا کرنے والا کوئی مسلمان ہے۔

پھر، پاکستان کی اس سابقہ اور ممکنہ طور پر آئندہ وزیر اعظم کے قتل میں تو ہمیں کیا معلوم دنیا کی کون کونسی قوتیں اور کون کونسے عوامل کار فرما رہے۔ خصوصا جبکہ یہ کھیل جس میں وہ شریک ہونے جار ہی تھیں ایک خطرناک بین الاقوامی کھیل ہے جس کے کھلاڑی اس وقت شمار سے باہر ہیں ، خاص طور پر جبکہ ہمارا یہ خطہ اب وہ اہمیت اختیار کرگیا ہے گویا عالمی سیاست کا اصل فیصلہ جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے اسی اکھاڑے کے اندر ہوجانے والا ہے اور مشرق وسطی سے لے کر وسط ایشیا تک کا مستقبل شاید یہیں طے پانے جارہا ہے.... لہذا اس واقعے کی ان دیکھی جہتوں کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں ، البتہ ایک بات جس کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ہمارے دینی طبقے ہر ہنگامی موقعہ پر کسی جاہلی رو میں بہہ جانے سے نہ صرف بچ کر رہیں بلکہ اسلامی حقائق کے بیان کے معاملہ میں اپنا فرض، جوکہ ان کے ذمہ ایک خدائی عہد ہے، پورا کریں اور اسلامی اساسیات و مسلمات کی تفسیر و ایضاح میں جاہلیت کے مد مقابل ”استقامت“ اختیار کریں ۔ کیا بعید آنے والے دور میں ہمارے ان دینی طبقوں پر بہت بھاری ذمہ داریں آپڑنے والی ہوں ، پھر کیا یہ جائز ہے کہ ایسے چھوٹے چھوٹے بحران اور ہچکولے، اپنے اس فرض کی ادائیگی میں ، جوکہ ورثہء انبیاءہے، ہمیں کوتاہ ثابت کرجایا کریں ، بلکہ اس بات کا ثبوت بنیں کہ ہمارے کاندھوں پر کوئی بڑی امانت ڈالی جائے تو ابھی یہ قبل از وقت ہوگا؟؟!!!