PDA

View Full Version : دریا پھاڑا گیا تھا یا در حقیقت سمندر


Mazhara
14th May 2008, 08:57 PM
السلام عليكم
بِسمِ ٱلله الرَّحْمٰنِ الرَّحِيـمِ
Beginning is with the Personal Name of Allah, الرَّحْمٰنِ {Ar Rehman} Who is Most Merciful.
اللہ تعالیٰ کے نام الرحمٰن سےابتدا ہے جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
اس تصور میں بھی کوئی وزن نہیں کہ عربی زبان کے الفاظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ عربی مادہ “ب ح ر“ کے معنی دریا یا سمندر نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر چیرنے اور پھاڑنے کو کہتے ہیں۔ اور چونکہ دریا اور سمندر بھی گہرائی کے حامل یعنی کھدے ہوئے ہوتے ہیں اس بناء پر ان کے لئے بحر استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے ترجمہ کرتے ہوئے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ بات سمندر کی ہو رہی ہے یا دریا کی۔ لفظ فرقنا نے بتا دیا تھا کہ گفتگو سمندر کی ہے دریا کی نہیں۔

http://haqeeqat.org.pk/book_1/09/09/01.jpg
http://haqeeqat.org.pk/book_1/09/09/02.jpg
http://haqeeqat.org.pk/book_1/09/09/03.jpg
Thanks for reading. If you agree and liked this Article, please tell and discuss with friends in pursuance of the only advice of Last Messenger {SAW}:

قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٲحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٲدَىٰ ثُمَّ تَتَفَڪَّرُواْۚ
Say, "I {Muhammad} advise you people with one advice; that find time for Allah in two’s or individually and thereafter reflect to know the purpose of things" {Refer 34:46}