for those who love irani shia regimen.see their real face.(sorry the article is in urdu)

Discussion in 'Global Affairs' started by drkjke, Sep 6, 2012.

  1. drkjke

    drkjke New Member

    Bismillah.

    note...one benefit this article is in urdu is that most lovers of irani shia regimen reside in pakistan .in pakistan if you expose shia in front of a devout sunni he will try to hurt or harm you.so emotional are pakistanis in love of shia,while strangely for sunni mujahideen they have no love or respect (i mean to say majority is like this ,they even elect shia rulers always,but mashhalah some pakistani brothers are truely serving islam in right way and making us all proud,may Allah help them ).(remember that fitna is bigger than qatal and their is no bigger fitna than rafdi fitna at present.


    anyway make others read it too.so maybe someone accepts the truth .or not?


    anyway read below.written more than 10 years back when iran was planning to attack taliban,s regimen in afghanistan to spread shiaism in afghanistan ,but chickened out at last minute as they are too coward to fight real men.


    [FONT=verdana, helvetica, sans-serif]ایران جوہری طاقت سے پہلے[/FONT]​
    [FONT=verdana, helvetica, sans-serif]محمد سرور
    ترجمہ: حامد کمال الدین، ترتیب: محمد زکریا

    تہران اور طالبان یا شیعہ، سنی
    [/FONT]
    [FONT=verdana, helvetica, sans-serif]زیرنظر مضمون طالبان اقتدار کے شروع دنوں میں عربی ماہنامہ ’السُّنَّہ‘ برمنگھم میں مدیر مجلہ محمد سرور زین العابدین کے قلم سے شائع ہوا تھا۔ اس کا جیبی سائز کے کتابچے میں مدیر سہ ماہی ایقاظ نے ترجمہ کرکے شائع کرایا تھا، اُسے معمولی نظرثانی کے بعد ایقاظ میں اس غرض سے شائع کیا جا رہا ہے کہ عالم اسلام کے حالات پہلے سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ہی سنی اکثریت والے ممالک میں سربراہان اور موثر طبقے کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ جوہری ایران کے موضوع پر ایقاظ دو مضامین شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اگلے شمارے میں اس مناسبت سے ایران جوہری طاقت کے بعد کے عنوان سے ہم ایران کے پڑوسی ممالک پر منڈلاتے خطرات پر مضمون شائع کریں گے۔ کیا یہ اچھنبے کی بات نہیں کہ واشنگٹن اگر واقعتا تہران کو جوہری طاقت سے محروم رکھنے میں سنجیدہ ہے تو اُس کیلئے اُسے سمندر پار سے نہیں آنا پڑے گا، مسافت اور قربت کے لحاظ سے دونوں ممالک کبھی اتنے نزدیک نہیں ہوئے تھے!

    مختلف افغان گروپ کئی سالوں سے افغانستان میں ایک دوسرے کے ساتھ لڑرہے ہیں۔ کبھی ایک گروہ کسی شہر پر قابض ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرا گروپ لوٹ کر خون ریز معرکوں کے بعد پہلے کو اس سے نکال دیتا ہے۔ اس طرح، اس بدقسمت ملک میں جنگیں روزمرہ کی چیز بن گئی ہیں جن سے کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔ نہ ہی اقوام متحدہ کو ان کی زیادہ پروا ہے۔
    [/FONT]
    [FONT=verdana, helvetica, sans-serif]ہمسایہ ممالک کا موقف ایک دوسرے سے مختلف اپنی اپنی مصلحتوں کے مطابق ہے۔ ایران اس جنگ کے آغاز سے ہی شیعہ افغان گروپوں کا حامی ہے ان کی اور ان کے حلیفوں کی ہر طرح مدد کرتا ہے۔ پاکستان اس گروپ کی مدد کرتا ہے جس پر اسے اطمینان ہوتا ہے۔ وہ گروپ بدل تو لیتا ہے لیکن یہ تبدیلی مذہبی نقطہء نظر سے نہیں ہوتی۔ اس کی بنیاد اس کی سیکورٹی کی مصلحتیں ہیں جن کا سب کو علم ہے۔ یہ مصلحتیں ایک حکومت سے دوسری حکومت تک بدل بھی جاتی ہیں۔ اسی طرح پاکستانی افواج کی ترجیحات سیاستدانوں سے مختلف ہیں۔ ایک حکومت کی تائید یا دوسری حکومت کی امداد سے قطع نظر جنگ مسلسل جاری ہے۔ عالمی سطح پر یہ ایک فراموش شدہ معاملہ ہے۔ اس عالم میں دُنیا نے یہ خبر سنی کہ مزارشریف پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہے۔ اس خبر میں کوئی نئی بات بھی نہ تھی۔ 1997ءمیں بھی اس شہر پر طالبان کا قبضہ ہوا تھا لیکن پھر حزب وحدت اور اس کے حلیف گروپوں نے آکر نہ صرف طالبان کو شہر سے نکال دیا بلکہ وہاں شرمناک قتل عام بھی کیا۔ اس لئے تازہ خبر میں کوئی عجیب یا ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی بات نہ تھی۔
    صرف ایران تھا جو طالبان کی طرف سے مزار شریف پر قبضے کے خلاف شدید ردعمل کا شکار ہوا۔ ایران کے ردعمل کے دو محور تھے۔
    عسکری محور:
    ایران کے مرشد عام نے پاسداران انقلاب کو ایران افغانستان کی سرحد پر جنگی مشقوں کا حکم دیااور اس کے ساتھ ہی ستر ہزار کی سپاہ جدید اسلحہ سے لیس وہاں تعینات کردی گئی اور فوجی مشقیں شروع ہو گئی تھیں۔ ان مشقوں کے ساتھ ساتھ طالبان کو دھمکانے، جنگ شروع کرنے کے اشارے بلکہ بعض اوقات صراحت سے جنگ کے ارادوں کا اظہار بھی شروع ہو گیا۔ دوسری طرف ایران عراق جنگ کے ابتدائی دنوں کی طرح فوجی مارچ بھی شروع ہوگئے۔ مشقوں کے اختتام پر اعلیٰ ترین قیادت کی طرف سے یہ احکامات جاری ہوئے کہ حکم ثانی تک پاسداران کے فوجی دستے سرحدوں پر موجود رہیں گے۔ طالبان کی طرف سے شیعہ اکثریت کے شہر بامیان پر قبضہ کے بعد آویزش میں اور زیادہ تیزی پیدا ہو گئی۔ طالبان پر دباؤ بڑھانے کیلئے ستر ہزار پاسداران ناکافی سمجھے گئے اور ساتھ ہی مرشد انقلاب کی طرف سے مختلف بٹالینز پر مشتمل دو لاکھ مزید افواج کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے۔ ان افواج نے بھی جلد ہی ایران افغانستان کی سرحد پر پوزیشن سنبھال لی۔ جواباً افغان افواج نے بھی حرکت میں آکر اس پر اپنی پوزیشنیں سنبھال لی جس سے دونوں فریقین مکمل حالت جنگ میں آگئے تھے۔
    پروپیگنڈے کا محور:
    ایرانی ردعمل کا دوسرا محور سیاسی اور پروپیگنڈے کا تھا۔ طالبان کے خلاف میڈیا کو اچھی طرح فعال کر دیا گیا۔ جس نے بھی ایران کے بصری یا سمعی میڈیا کو دیکھا اسے ایسا محسوس ہوا گویامسئلہ طالبان کے علاوہ دُنیا میں اور کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔ بقول تہران جاہل وحشیوں کی یہ تحریک جس نے پرامن افغان باشندوں پر شبخون مار کر ان کے لئے تباہی کے گڑھے کھود دیئے ہیں اب ہمسایہ ممالک کیلئے شدید ترین خطرہ بن گئی ہے۔ بلکہ اصل میں یہ امن عالم کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔ اس شدید خطرے کے پیش نظر تہران نے عرب بلکہ تمام دُنیا کے مختلف ممالک کی طرف اپنے نمائندے بھیجے تاکہ وہ اس مصیبت کی گھڑی میں ایران کی مدد کریں۔سیکیورٹی کونسل میں شکایت داغی گئی کہ طالبان کے خلاف کارروائی کی جائے، انہیں روکا جائے اگر باز نہ آئیں تو جنگ کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں۔
    طالبان نے ایسا کیا جرم کردیا تھا؟ انہوں نے کس جرم کا ارتکاب کیا کہ ایران نے نقارہء جنگ بجا دیا؟
    ایران کا کہنا ہے کہ مزار شریف پر قضے کے وقت طالبان نے سات ایرانی سفارت کار قتل کردیئے۔ طالبان کا جواب یہ تھا :
    (1) ہم مانتے ہیں کہ بعض طالبان عناصر نے ان کو قتل کردیا لیکن یہ عناصر کسی قانون اور ضابطے کے پابند نہ تھے ان کے اس عمل شنیع پر انہیں قرار واقعی سزا ملے گی۔
    (2) جن ایرانیوں کو قتل کیا گیا وہ شیعی حزب وحدت کے ساتھ مل کر باقاعدہ لڑائی میں شریک تھے، وہ پرامن شہری نہ تھے۔ ایران طالبان کے قبضے سے پہلے اپنے تمام سفارت کاروں کو مزار شریف چھوڑنے کا حکم دے چکا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے نتائج کی پروا نہ کرتے ہوئے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
    (3) طالبان کے ترجمان مولوی وکیل احمد متوکل نے جو بیان دیا اس کا خلاصہ یہ ہے: 1997ءمیں جب حکومت کے مخالفین نے مزار شریف پر دوبارہ قبضہ کیا تو شیعی حزب وحدت نے ہزاروں طالبان کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں انہیں شہر سے دورگولی مار کر شہید کردیا گیا تھا۔ جن صحافیوں نے ان کی لاشیں دیکھی ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ان میں سے اکثر کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ مزار شریف کے مغربی علاقوں میں ان کی اجتماعی قبریں اس جرم پر واضح دلیل ہیں۔ ان گڑھوں میں طالبان حامی عناصر مدفون ہیں۔ مزار شریف کی دوبارہ فتح کے بعد 16 ستمبر 1998ءمیں طالبان نے مزید تین اجتماعی قبریں دریافت کیں جن میں 900 سنی مسلمان مدفون پائے گئے تھے۔ بامیان میں بھی طالبان کی فتح سے پہلے حزب وحدت نے 30 طالبان قیدیوں کو شہید کردیا اور 15 کو ایران بھجوا دیا۔
    طالبان کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی طرف سے ایران کی ناروا حمایت اور ایرن کے جھوٹے دعوؤں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
    افغان ترجمان کی وضاحت اور دیگر ناقابل تردید دلائل وشواہد سے واضح ہو چکا ہے کہ ایران افغانستان کی خانہ جنگی میں غیر جانبدار نہیں ہے۔ اس نے آغاز ہی سے شیعہ گروپوں اور ان کے حلیفوں کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالے رکھا ہے۔ ورنہ اسے کیا ضرورت تھی کہ حزب الوحدت کی طرف سے قیدی طالبان کے قتل کے غیر انسانی غیر اسلامی جرائم کو قابل فخر کارنامے قرار دے کر ان کی ڈھارس بندھائے۔ یہ قاتل خود متعصب شیعہ ہوں یا ان کے مفاد پرست سنی حلیف، ایران کی شیعی ریاست میں اکرام واعزاز کے مستحق ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی منافقت بھی تمام حدود وقیود کو عبور کرچکی ہے۔ اس کا موقف یہ ہے کہ ہمیں ان واقعات کا علم نہیں۔ اجتماعی قبروں کی خبریں اور تصویریں پوری دُنیا کے میڈیے کے سامنے آچکی ہیں۔ دوست دشمن سبھی جان گئے ہیں۔ عالمی تنظیموں اور حقوق انسانی کے اداروں کے ذریعے ان کی تصدیق بھی پوری دُنیا کے سامنے ہو چکی ہے۔ اگرنہیں جانتی تو صرف اقوام متحدہ!
    اس سے ثابت ہوا کہ مزار شریف پر طالبان کے قبضے کے بعد ایران نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کا سبب سات نام نہاد سفارت کاروں کا قتل نہیں، ایران خود بھی بین الاقوامی معاہدوں اور سفارت کاروں کے حقوق کا قائل ملک نہیں ہے۔ تہران کے امریکی سفارت خانے پر ایرانی قبضے کا واقعہ دُنیا کو ابھی تک نہیں بھولا۔
    دوہرے معیار اور منافقت کو اپنا شعار بنانے والی اقوام متحدہ بھی سفارت خانوں پر قبضے، ہوائی جہازوں کے اغوا اور لوگوں کو یرغمال بنانے کے واقعات کو بھول نہیں سکتی جن میں سے ایک واقعہ اینگلیکن چرچ کے ڈاکٹر ٹیری دیٹ کا ہے جو ثالثی کیلئے ایران پہنچا اور وہاں جا کر یرغمال بنا لیا گیا۔ یہ لوگ کس منہ سے اقوام متحدہ کے چارٹر، سفارت کاروں کے حقوق اور سفارت خانوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں! اگر ہم بالفرض محال یہ بھی مان لیں کہ ایرانی افراد مزار شریف میں سفارت خانے کی عمارت میں قتل کئے گئے یا یہ کہ وہ نامزد سفارت کار تھے تو بھی ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی بات نہیں کرنی چاہیے۔
    اب عالمی میڈیا ایرنی فوج کے اجتماع اورافغانستان کی سرحدوں پر ان کے تعین کے حقیقی اسباب سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ ہر روز خبروں کے ساتھ ذمہ دار لوگوں کی طرف سے تجزیے، تبصرے اور اندیشے سامنے آرہے ہیں جو شیعہ ایرانی اور سنی طالبان سے ملنے والے سیاست دانوں، سفارت کاروں اور لیڈروں کے بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ البتہ ان خبروں کو مذہبی پیرائے میں ایران پیش کر رہا ہے۔ سنی ریاستوں کے موقف میں اس اختلاف کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہوتا وہ اپنی سیاسی اور سیکیورٹی اور علاقائی امن کی مصلحتوں کے حوالے سے بیانات دیتے ہیں۔
    یہ احساس صرف اور صرف ایران میں پیدا ہوا ہے کہ اس بار مزار شریف اور اس کے بعد بامیان کی فتح سے سنی طالبان کی زیرقیادت ایک ایسی سنی ریاست وجود میں آگئی ہے جو تہران ساختہ شیعی انقلاب کی برآمد میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور یہ کہ ایسی حکومت برصغیر میں سنی احیا کی شکل اختیار کر سکتی ہے، اس کے بعد خود ایران اور باقی اسلامی دُنیا میں بھی یہ سنی اسلام کے احیا کی تحریک بن سکتی ہے، اس لئے ابتدا ہی میں اس کونپل کو مسل دینا ضروری ہے، اگر یہ تن آور درخت بن گیا تو پھر اسے جڑ سے اکھیڑنا ممکن نہیں ہوگا۔
    مجھے اس بات کا اعتراف کرنے دیجئے بلکہ میں ایران کو اس بات کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ایرانی اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے شیعہ مختصر ترین وقت میں منظم ہو کر اپنے اہداف مقرر کرکے اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں لگ جانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمیں اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ سنی یا وہ لوگ جو اہل سنت کی طرف منسوب ہیں آج بھی اسی کیفیت میں ہیں جو خمینی انقلاب کے آغاز کے وقت اُن کی تھی۔ دونوں کا موازنہ بہت تکلیف دہ ہے۔
    شیعی مؤقف:
    اثنا عشری شیعوں میں بہت سے اختلافات ہیں۔ بعض اوقات ان اختلافات سے نوبت باہمی تکفیر تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ان میں سے بعض معتدل ہیں بعض متشدد، لیکن میں نے جب بھی کسی ایسے واقعہ پر غور کیا جس میں شیعہ ایک فریق ہوں تو واضح ہو گیا کہ اس صورت میں ان کے باہمی اختلافات بھلا دیے جاتے ہیں۔ فرق اسلوب اور اپنے کردار کو ادا کرنے کے طریقے میں رہ جاتا ہے۔
    طالبان سے اختلافات میں بھی بالکل یہی ہوا ہے۔ ان کے ترجمان رسائل بہت سی زبانوں میں شائع ہوتے ہیں، ان کے مرجع، ممتاز شخصیتیں، عام لکھنے والے۔ سب کے نزدیک اس وقت دُنیا کا واحد مسئلہ تحریک طالبان ہے، ان کے مطابق ایک وحشی جماعت جو خطے میں امریکی سازشوں کو پروان چڑھا رہی ہے، مسلمانوں کی صفوں میں انتشار اور فرقہ وارنہ اختلافات پیدا کر رہی ہے۔
    میں نے ان میں سے بے شمار لوگوں کے بیانات پڑھے ہیں، سبھی کا مطالبہ ایک ہے، ’طالبان کو فنا کردو‘۔ لبنان میں ان کے مرجع اعظم حسین فضل اللہ نے بھی کہا ہے ان کی مجلس اسلامی کے صدر، محمد مہدی شمس الدین جو انتہائی معتدل شیعہ سمجھے جاتے ہیں ان کا بیان بھی کسی متعصب شیعہ سے کم نہیں۔
    شیخ محمد مہدی شمس الدین نے اسلامی تنظیموں کے قائدین اور کارکنان سے مطالبہ کیا ہے کہ اُمت مسلمہ کے اتحاد کی حفاظت کیلئے افغانستان میں ہونے والی قتل وغارتگری، احمقوں کے ہاتھوںپھیلنے والی تباہی، عصمت دری اور خونریزی کے خلاف متحدہ موقف اختیار کریں۔ انہوںنے فرمایا یہ شیعہ یا ایرانی مسئلہ نہیں عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی فرمایا کہ طالبان امریکی ایجنٹ ہیں۔ یہ نہ قوم پرست ہیں نہ سنی ہیں نہ کوئی اسلامی تحریک۔ (الشرق الاوسط۔ 1998۔9۔17)
    جناب شمس الدین اور ان کے بیان سے اتفاق کرنے والے اور ان کی اعتدال پسندی کو حقیقت سمجھنے والے حضرات کی خدمت میں ہم مندرجہ ذیل حقائق پیش کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے؟
    ×1970ءمیں شیعی حزب وحدت نے مزار شریف میں جن طالبان کو ذبح کیا ان کی خبر جناب شمس الدین تک پہنچی؟ایک اجتماعی قبر سے نو سو لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ کیا یہ قابل فخر اسلامی کارنامہ تھا؟ یا یہ طالبان اہل سنت کے کافر اور امریکی ایجنٹ تھے۔ جو سات شیعہ مقتولین کے ایک پاؤں کے برابر بھی قرار نہیں دیئے جا سکتے؟
    قابل صد احترام شمس الدین کی وسعت قلبی اور دل گدازی ان مذبح خانوں کے بارے میں کیا کہتی ہے جو لبنانی شیعوں نے ان کے شہر بیروت کے فسلطینی کیمپوں ”صبرا“ اور ”شتیلا“ میں برپا کئے تھے جہاں حضرت شمس الدین کا اپنا قیام ہے کیا حضرت نے درد کی ماری ماؤں کی چیخیں سنی تھیں جومعصوم بچوں کے قتل پر بلند ہوئی تھیں، کنواری لڑکیوں کی عصمت دری کی انہیں خبر ہوئی تھی جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ سنی تھیں! ان بوڑھوں کی فریاد ان کے کانوں تک پہنچی جو بے گناہ قتل کئے گئے یا ان معصوم بچوں کی دلخراش چیخیں سنائی دیں جنہیں ماؤں کی گود سے چھین کر شیعہ تنظیم ”امل“ کے جیالوں نے قتل کرکے پہلے سے کھودے گئے گڑھوں میں ڈال دیا تھا۔ عزت مآب شمس الدین ان واقعات کو کوئی تو انسانی، اسلامی تعبیر فرماتے ہوں گے؟
    یہودیوں اور میرونی عیسائیوں کی ایجنٹی کرتے ہوئے نہتے فلسطینی کیمپوں میں جو انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے ان کے بارے میں آپ کوئی باریک فسلفیانہ وجوہات تو پیش فرماتے ہوں گے ہمیں بھی ان سے آگاہ کریں یا آپ کے خیال میں یہ استعمار کا جھوٹا پروپیگنڈا ہے جو فرقہ واریت کو ہوا دینے کیلئے پھیلایا گیا ہے۔
    اسلامی اتحاد کا شیعی مفہوم یہ ہے کہ آپ حضرات ہمارے بچوں کو ذبح کریں، بے گناہوں کو قتل کریں، اپنا مسلک ہر ذریعہ سے پھیلانے کی کوشش فرمائیں اپنا شیعی انقلاب ہمارے ملکوں کو برآمد فرمائیں اور ہم خاموش رہیں اگر ہم آپ سے عرض کریں کہ جناب ہاتھ روک لیجئے، ہماری گردنوں سے تلواریں اٹھا لیجئے تو ہم عالمی استعمار کے ایجنٹ، جاہل اور شرپسند ٹھہرائے جائیں؟
    جناب شمس الدین کا ارشاد ہے ”طالبان امریکی ایجنٹ ہیں، یہ نہ قوم پرست ہیں نہ سنی اور نہ ہی کوئی اسلامی تحریک“۔
    حضور یہ بھی بتا دیجئے کہ آپ اس نتیجے تک کیسے پہنچے؟ آپ کے ارشادات کا ایک ایک جملہ عجائب پر مبنی ہے، ایک ایک قدم پر ایک نیا انکشاف ہے۔
    ہماری معلومات تو یہ ہیں اور ساری دُنیا بھی یہی جانتی ہے کہ امریکہ نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا، اقوام متحدہ نے بھی تسلیم نہیں کیا۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کے علاوہ ساری مغربی دُنیا برہان الدین ربانی اور ان کی حلیف حزب وحدت کی حکومت کو قانونی حکومت مانتی ہے۔ ان دونوں کی سرپرستی ایران ہی فرما رہا ہے۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان تو ایک بہت بڑی مشکل بھی موجود ہے جس کا کوئی حل نہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اسامہ بن لادن اور دوسرے تمام عرب مجاہد جو کمیونسٹوں کے خلاف جہاد کرتے رہے ہیں، انہیں وہ امریکہ کے حوالے کر دیں۔ طالبان نہ صرف انکار کر رہے ہیں بلکہ ان کا موقف تو یہ ہے کہ اگر امریکہ کینیا اور تنزانیہ میں اپنے سفارتخانوں کی تباہی میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت پیش کردے تو بھی ان مجاہدین کو امریکہ کے سپرد نہیں کیا جائے گا کیونکہ شرعاً کسی مسلمان کو مقدمہ چلانے اور سزا دینے کیلئے کفار کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ امریکہ تو اپنے خیال کے مطابق دہشت گردوں کو پناہ دینے کے جرم میں افغانستان پر میزائلوں سے حملہ کر چکا ہے۔ حضرت شمس الدین کیسے یہ چاہتے ہیں کہ ہم ان تمام حقائق کو جھٹلا دیں اور ان کے دعوے کو قبول کر لیں؟
    لبنان میں شیعی مجلس اسلامی کے صدر نشین اگر بغیر کسی دلیل کے یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ طالبان امریکی ایجنٹ ہیں توہم ان پر امریکی ایجنٹ ہونے کے محض الزامات نہیں، دلیلیں ان کی خدمت میں پیش کئے دیتے ہیں۔
    × معزول آنجہانی شاہ ایران اور ان کی حکومت کے ذمہ دار لوگوں نے اپنی اپنی ڈائریوں میں تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ امریکہ خمینی کے انقلاب کی حمایت کیلئے شاہ کے نظام کے خلاف سازشوں میں پوری طرح شریک تھا۔ سابقہ امریکی عہدیداران کی بھی اسی طرح کی ڈائریاں سامنے آچکی ہیں۔ خمینی انتظامیہ بھی ایسے روابط کا اعتراف کر چکی اگرچہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ خمینی خود ان روابط سے لاعلم تھے۔ جب یہ حقائق سامنے آئے تو خمینی نے سرکاری اعلیٰ عہدے داروں بشمول قطب زادہ کی معزولی کے احکامات صادر فرمائے۔ انہیں اپنے دفاع کا قانونی حق بھی نہیں دیا گیا۔ آخر ایسی جلد بازی کس خطرے کے پیش نظر کی گئی تھی۔
    × جب عراق ایران جنگ زوروں پر تھی تو مختلف قسم کے اسلحے سے لدا ہوا ایک امریکی جہاز تہران کے ہوائی اڈے پر اترا، امریکی ایسٹیبلشمنٹ کا ایک وفد بھی ساتھ آیا تھا تاکہ ایرانی حکومت کو اپنے خلوص کا یقین دلا سکے اور دونوں ملکوں کے درمیان اب تک کے خفیہ رابطوں کو مضبوط بنا سکے۔ لیکن پوری کوشش کے باوجود راز، راز نہ رہ سکا۔ تہران کو مجبوراً جہاز کے اترنے اور وفد کے پہنچنے کا اعتراف کرنا پڑا۔ یہ بھی ماننا پڑا کہ یہ سب جناب خمینی کی اجازت سے ہوا تھا۔
    اس سلسلے میں ہم جناب شمس الدین کی توجہ ان وثائق کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جو امریکہ میں ایران گیٹ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ہمارا دعویٰ بلادلیل نہیں۔ انہیں یاد ہو گا کہ ایرنی قیادت نے اس سے قبل امریکہ کو ”شیطان عظیم“ کا خطاب عطا کیا تھا۔ جب وہ اس بڑے شیطان سے تعاون لے سکتے ہیں تو چھوٹے شیطان، ابلیس لعین سے تعاون لینے میں کیا عار محسوس کرتے ہوں گے۔
    اگر یہ سب دلیلیں۔ اپنی اہمیت کے باوجود جناب شمس الدین کیلئے کافی نہیں تو اس سے بڑی دلیل بھی موجود ہے اور ان کے پیش خدمت ہے۔
    × کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ایک اسرائیلی طیارہ یوکرائن کے سرحدی علاقوں میں گرگیا، دُنیا بھر کے صحافی پیچھے پڑ گئے کہ طیارہ گرنے کے اسباب معلوم کریں۔ تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ اسرائیلی طیارہ اسرائیلی ساخت کے اسلحے سے بھرا ہوا تھا اور خفیہ پرواز پر ایران جا رہا تھا۔ اسلحہ لے جانے والا یہ پہلا اسرائیلی طیارہ نہیں تھا اور نہ ہی مشترکہ دشمن .... عراق .... کے خلاف اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ پہلا دفاعی نوعیت کا تعاون تھا۔
    یہ محض چند مثالیں ہیں۔ جناب شمس الدین سے گزارش ہے کہ آپ کی طرف سے طالبان پر لگائے گئے الزامات پر اگرچہ آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں لیکن ہمارے پاس ایرانی آیۃ اللھی نظام کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کی اور بہت سی دلیلیں موجود ہیں۔ بلکہ پوری تاریخ اسلامی آپ حضرات کی طرف سے اہل سنت کے خلاف کفار کے ساتھ تعاون اور یکجہتی کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
    سنی موقف:
    افغانستان میں طالبان کی فتوحات کے بارے میں جو کسی طرح بھی شیعہ سنی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں، دُنیا بھر کے شیعوں کا موقف ایک ہے، ان کا ہدف بھی ایک ہے، طالبان کو فنا کردینے کا مطالبہ بھی مشترکہ ہے، لیکن اس کے مقابلے میں سنی موقف نہایت بودا اور غیر واقعیاتی ہے۔ اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
    .... ہم اپنے ”مرکز تحقیقات اسلامی برمنگھم“ میں اہل سنت کے مسائل اور ان میں طالبان کی خبروں اور وقائع کا مستقل مطالعہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس ہر قسم کی اور بالکل یقینی معلومات ہیں۔ اس لئے ہم کوئی ناقابل تردید موقف اختیار کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ اگر ہماری پیش کردہ مثالوں کے بارے میں کسی طرف سے کوئی قابل قبول وضاحت یا تردید آگئی تو ہم بلاتامل اسے تسلیم کر لیں گے۔ تاہم اب تک ہماری معلومات کا خلاصہ یہ ہے کہ تحریک طالبان، افغانستان اور پاکستان کے دینی مدارس اور جامعات میں پڑھنے والے (افغان) طلبا کی تحریک ہے۔ بیشتر طلبہ یونس خالص اور مولانا جلال الدین حقانی کی قیادت میں روس کے خلاف جہاد میں شریک کار رہے ہیں۔ جنگ کے بعد یہ اپنے اپنے مدارس میں لوٹ آئے۔ لیکن جب افغان مجاہدین کی مختلف تنظیموں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی اور ختم ہونے کی بجائے پھیلتی گئی اور اس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان حد سے بڑھ گیا اور ان برسرپیکار گروپوں کے درمیان صلح کی کوئی صورت بھی کامیاب نہ ہوئی تو ان طلبہ نے خانہ جنگی میں ملوث جہادی تنظیموں سے اپنے وطن کو نجات دلانے کا بیڑا اٹھایا۔ انتہائی کم وقت میں یکے بعد دیگرے صوبوں پر صوبے ان کے تسلط میں آنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ بعض تنظیموں کی ملیشیا طالبان کے خلاف اپنے قائدین کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیتی تھی۔ افغانوں کے دلوں میں علماءاور طلبہ علم کا حد سے زیادہ احترام پایا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی مدد بھی انہیں حاصل تھی۔ ہم یہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی فوج دفاعی معاملات میں سول حکومت کی پالیسیوں کی پروا نہیں کرتی۔ ہاں فوج اس بات کی تردید ضرور کرتی ہے کہ انہوں نے طالبان سے تعاون کیا ہو۔
    افغانستان اور پاکستان سے آنے والے واقفان احوال کے ذریعے یہ مصدقہ خبریں سامنے آئیں کہ طالبان نے اپنے زیرتسلط علاقوں میں مکمل طور پر امن وامان قائم کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خود کو کسی ایک سیاسی جہادی جماعت کی تائید یا کسی کی مخالفت سے بھی الگ تھلگ کر رکھا ہے۔ مختلف سیاسی معاملات میں خود کو غیر جانبدار رکھتے ہوئے انہوںنے اپنے پیش نظر صرف ایک کام رکھا، یعنی اسلامی شریعت کا مکمل نفاذ۔
    سابقہ جہادی تنظیمیں شروع سے ان کی مخالف تھیں۔ یہ بھی فطری بات تھی کہ ایران بھی طالبان کو ناپسندیدہ عناصر قرار دے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ طالبان حنفی مذہب کے پابند ہیں، حنفی طلبہ کا شیعہ کے بارے موقف بھی غیر معروف نہیں۔
    ہم اس تحریک کے بارے میں یہی جانتے ہیں۔ یہ معلومات مکمل نہیں، ان سے مل کر ان کی طرف منسوب الزامات پر براہ راست ان سے بات کرکے ہی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ طالبان پر اب تک جتنے الزامات لگائے گئے ہیں وہ ایران یا سابقہ ایران نواز جہادی تنظیموں نے لگائے ہیں اور ان الزامات کو کوئی بھی غیر جانبدارانہ نہیں سمجھتا۔
    سنی ممالک میں سے سوڈان کے صدر عمر البشیر کا طالبان کے بارے میں بیان شرمناک حد تک غیر ذمہ دارانہ تھا۔ ایرانی صدر کے مشیر محمد علی تسخیری کا خرطوم میں استقبال کرتے ہوئے عمر البشیر نے کہا: طالبان ملیشیا اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہی ہے۔ سوڈان کے اخبار الرای العام نے ان کا بیان نقل کرتے ہوئے اپنی اشاعت میں لکھا کہ صدر عمر البشیر نے الزام لگایا کہ طالبان عورتوں کی تعلیم، اظہار رائے اور ملازمت کے حق کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن پر نہیں آسکتی ہیں اور نہ غیر متحرک تصویر کھنچوا سکتی ہیں۔ انہیں کاشت کاری کا پیشہ اختیار کرایا جاتا ہے جہاں وسیع پیمانے پر پوست کاشت ہوتی ہے۔
    سوڈان کے صدر ملک میں اسلام کے نفاذ کا دعویٰ کرتے ہیں، ایران کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یہ غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل بیانات انہیں عالم اسلام میں باوقارنہیں بناسکیں گے۔ اس سے پہلے وہ سوڈان میں زنابالجبر کی اسلامی شریعت کی سزا ’رجم“ منسوخ کرکے بھی اپنے آپ کو اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے گرا چکے ہیں۔
    اہلسنت سے منسوب ایک دینی تنظیم کے نمائندے نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ عراق کے مقابلے میں ہم نے اسلامی ملک ایران کی حمایت کی ہے۔ ہم نے عرب قوم پرستی کو چھوڑ کر اصولوں کو اپنایا ہے، مظلوم کا ساتھ دیا ہے، ایک ایسا ملک جو اسرائیل اور امریکہ کا دشمن نمبر ایک ہے۔ اس کی حمایت کرنا ایک اصولی موقف تھا۔
    [/FONT][FONT=verdana, helvetica, sans-serif]انا ﷲ وانا الیہ راجعون

    [/FONT]
    [FONT=verdana, helvetica, sans-serif][/FONT]
     
    ahmad10, userzain and AbuMjhdh like this.
  2. userzain

    userzain <A HREF="showthread.php?t=70991"></A>

    JazakAllah
     
  3. Abu shaam

    Abu shaam 1Ummah

    Man thats a big article. Anyway I have translated some of it. There might be mistakes in it. I will translate the other part soon.Mods Please change the title of the thread . Remove "sorry this article is in Urdu".

    Tehran vs Taliban or Shia vs sunni. This article was published in arabic during start of Taliban Rule in the monthy “Al-Sunna”. It was published in Bimingham by Muhammad Sarwar Zain ul Abideen. It was translated and published by “eqaaz”(a Dawah Organization) in the form of a pocket sized booklet. It is now published again because neither the situation of the Muslim world has changed nor the mindset of the intelligencia .”eqaaz” intends to publish two new articles on the subject of Nuclear Iran and its repercussions for the neighboring countries. If Washington really intended to stop Tehran from acquiring the nuclear weapons then it would not have to come from North America Rather the two countries have never been so near as they are now.

    Different Afghan groups have been fighting amongst themselves for quite some time now. Sometimes one group dominates a city and sometimes the other. The war has become a routine in the unfortunate country and nobody is astonished by that. Even the UN does not care about it. The stance of the neighboring countries is according to their own different needs. Iran has been supporting the shia groups from the start of the war. Whereas, Pakistan helps the group by which its satisfied. It may change the group it supports but its stance is not dictated by religion rather it is based on Islamabad’s strategic and security needs which are known to everyone. These needs might also change from government to government. Similarly the priorities of Pakistani army are different from that of the politicians. Regardless of the support of any government the war continues in Afghanistan. On the international stage this is a forgotten issue(afghan war).

    Then the news came that taliban have occupied Mazar e Sharif and there was nothing new in this news. In 1997 also the Taliban had occupied Mazar e Sharif but then the Hizb Wahdat(shia group) and its allies not only expelled the Taliban but also committed a shameful massacre. So there was nothing astonishing in the recent news. It was only Iran that has reacted bitterly against the Taliban control of Mazar e Sharif. Iran reacted in 2 ways.
    First was the military reaction. Iran’s Leader had moved the revolutionary guards to the Afghan border and ordered the military exercises. Along with these exercises Iran had also started threatening taliban. Sometimes they blatantly gave threats of war. Iran had also started military parades similar to those witnessed at the start of Iran Iraq war. After the exercises the orders were given by the Senior leadership that the revolutionary guards will remain stationed on the border unless ordered otherwise. The Iranian rhetoric increased after the Taliban’s occupation of the Bamyan province. Iran considered 70,000 troops insufficient for pressurizing the taliban so they stationed 200,000 more troops on the Iran-Afghan border. Consequently the Taliban also ordered their troops to take positions on the border. Both the parties had become belligerent.

    Second was the Political and Propaganda reaction. Media was made active against the taliban. Anyone who had seen the Iranian media would feel as if there was no other issue in the world besides taliban. According to Iran this Barbaric and illiterate movement was destroying Afghanistan and has become a grave danger not only for the neighboring countries but also for the whole world. In the backdrop of such a danger Iran sent its emissaries to the whole world so that the world can help Iran in the hour of need. The message was given that the action had to be taken against the taliban and if they are not stopped then the war would become inevitable. What crime had the Taliban committed??? What had they done which made the war inevitable?? Iran said the Taliban executed 7 iranian diplomats when they attacked Mazar e Sharif.
    Taliban’s reply was “

    1)We admit that some talibs might have killed the diplomats but they were not bound by any law However they might be punished for their act.

    2) The Iranians who were killed were supporting the Hizb e Wahdat(shia militant organization) and were participating in the fight. The diplomats were not peaceful citizens. Iran had ordered its diplomats to leave Mazar e Sharif prior to the assault. But these diplomats stayed there without considering the consequences of their actions.

    3) the taliban spokesman Wakil Ahmad Mutawakil said that In 1997 when the anti taliban shia Hizb e Wahdat occupied Mazar e Sharif prior to Taliban’s second assault, they had arrested hundreds of taliban. After their arrest they were subsequently executed. The journalists who had seen the deadbodies say that most of dead were handcuffed. The mass graves in the West of Mazar e Sharif are a proof of their crime. Supporters of the Taliban are buried in those mass graves. After the second conquest of Mazar e Sharif in 1998 Taliban discovered 3 more mass graves in which deadbodies of 900 sunnis were found. In Bamiyan as well Hizb e Wahdat had executed 30 taliban prisoners and sent 15 of them to Iran. The Taliban spokesman also condemned the UN’s support for Iran.

    After this statement of the taliban’s spokesman and other proofs it had become evident that iran was not neutral in the Afghan Civil war. It had supported the Shia groups from the very start of the war. What other reason did Iran have for supporting the despicable and inhumane actions of Hizb e Wahdat. The killers are considered respectable in Iran whether they are extremist Shias or their opportunist sunni allies. The UN’s hypocrisy had also become evident. The pictures of the mass graves were seen on the mass media .All the human rights organizations have also verified the incidents. If there is someone who can’t verify these incidents then it is the UN !!!. The stance that iran took in the wake of the killing of 7 diplomats was not due to the international laws. Iran itself had violated these laws in the past. The incident of the American embassy is still fresh in the memories of the world. The hypocrite UN can also not forget the kidnappings, one of which was of a doctor Terry Dait who came to Iran as a mediator. When he reached Iran, he was taken as a hostage. How can iran talk about the UN charter and human rights !!!


    Even if we admit that the 7 Iranians killed were indeed diplomats and were killed in the embassy, it doesn’t give Iran the right to rant about the UN charter. Now the international media is exposing the real motives behind the stationing of Iranian troops on the border. Every day the analysis is being done on base of the statements of the politicians, leaders and diplomats of Sunni Taliban and Shia Iran. The biased sectarian view of the situation is being presented by iran and not by the Sunni states. The Sunni states only take positions or give statements based on their own interests.

    Only iranians realized this time that the conquest of Mazar e Sharif and then Bamyan by the Sunni taliban has created such a Sunni state which will become an obstacle for the Iran’s shia revolution. This government can create a Sunni awakening in the Indian subcontinent and in the whole world as well. So Iranians should nip the evil in the bud. If the Sunni awakening takes strength then it will be impossible to undermine it.



    I have to admit that I have to give credit to the iranins and the shias for mobilizing in such a short period of time to achieve their goals. Whereas we have to admit that those people who call themselves Sunnis are far from such activism. Even their comparison with the Shias is painful.. There are many differences among the Twelver Shias. Sometimes these differences can take the shape of takfeer. Some twelvers are extremists while others are moderates but whenever I talk to any shia about an issue in which the shias are a party then a shia forgets all the differences. The only difference remains in the methodology to achieve the goals. The same thing happened in case of the Taliban. Many articles were written by influential shias and Shia organizations. All of them considered taliban as the only problem of the world. According to them it’s a barbaric organizations that works for America and is fanning sectarian divisions in the Muslim world. I have read the statements of many prominent shias and all of them demanded one thing “obliterate the taliban”


    In Lebanon a prominent shia hassan Fadlullah has also said that the leader of Majlis e Islami Muhammad Shams uddin who is considered a moderate shia is no way less biased than an extremist shia. Shamsuddin has demanded that all Islamic organizations should stop the bloodshed in Afghanistan for the unity of the Muslim world and has said that the taliban are not only a problem for iran but for whole islamic world. He has also said that the taliban are American agents. They are neither Sunnis nor nationalists. I present those people with some facts who consider shamsuddin as a moderate leader.

    Did the news of the massacre committed to the Hizb e Wahdat reach Mr Shamsuddin?

    900 dead bodies discovered in a mass grave. Is this a commendable act??

    Or these barbaric ahl sunnah had to be killed.

    What Mr shamsuddin has to say about the complicity of Hezbollah in “Sabra” and “Shatilla” Massacres?

    Can’t he hear the screams of the mothers whose children were mercilessly killed !!

    Can’t he listen to the plight of the old men, women and children massacred by “Amal organiztion(former name of Hezbollah) ??

    Please let us know of any excuses you have for Amal’s collaboration with the jews and the maronite Christians and their oppression of the Palestinians.

    Or is it just an imperialist propaganda.

    The Shia interpretation of Islamic unity is that these people kill our children and our innocents and spread their creed by every possible way and expect us to remain silent. If we ask you to please stop killing us then we become barbaric and illiterate agents of US. Mr Shams uddin says that “the taliban are American agents. They are neither Sunnis nor nationalists.”.. So Mr Shamsuddin please tell us how you reached to this conclusion. This is a strange conclusion. For all we know is that the Americans have refused to recognize the taliban. UN too has not recognized them. All the world says the government of Burhunuddin Rabbani and Shia majlis e wahdat is the legitimate government. Both of them are supported by iran. There also a BIG contentious issue between the taliban and American and that is “Osama Bin Laden”. America wants that the Taliban should hand over Osama Bin laden to them. Taliban have not only refused to hand over Bin Laden but has stated that they would even not consider the evidences of Bin laden’s involvement in the bombings of Nairobi and Dar ul salam because in Shariah it is impermissible to hand over a Muslim to the Kuffar.


    Another pertinent thing is that the Americans have even attacked Afghanistan for sheltering the terrorists. How can Mr Shamsuddin expect us to ignore all these evidences.
     
    Last edited: Sep 7, 2012
    AbuMjhdh, Farouk, Armitage4 and 2 others like this.

Share This Page